Back to all community books

The Monkey King

Courage Digital art style

In the mystical land of Mount Huaguo, a mischievous monkey named Sun Wukong faces a series of challenges to protect his home against the mighty Jade Emperor. With a blend of courage, wit, and magic, Sun Wukong must overcome obstacles, outsmart powerful adversaries, and ultimately find his true calling.

Once upon a time, in a mystical land called Mount Huaguo, there lived a 19-year-old monkey named Sun Wukong. He was no ordinary monkey; his skin was golden brown, and he possessed incredible magical powers. Sun Wukong ruled over a troop of monkeys and kept them safe with his mischievous but courageous spirit.

One day, the Jade Emperor, ruler of Heaven, heard about Sun Wukong’s extraordinary abilities. He wanted Sun Wukong to serve as his guardian, but the Monkey King loved his home too much to leave. The Jade Emperor sent heavenly soldiers to capture him, but Sun Wukong easily defeated them.

Angry and humiliated, the Jade Emperor sent even more soldiers, this time with powerful magic. They managed to trap Sun Wukong under a mountain. Sun Wukong struggled to break free, his heart heavy with the thought of leaving his home undefended.

Sun Wukong used his cunning to break free from the mountain and return to his troop. But the Jade Emperor wasn’t done. He decided to send his most powerful general, Erlang Shen, who had a magical lasso that could capture even the most elusive beings.

Sun Wukong faced Erlang Shen in a fierce battle. Erlang Shen’s lasso glowed with powerful magic, making it difficult for Sun Wukong to dodge its grasp. As the lasso tightened around him, Sun Wukong’s confidence began to waver.

- I can't let him capture me! Sun Wukong thought desperately.

Just as he was about to be defeated, Sun Wukong remembered a secret technique he learned from his master. He used his magic to transform into a tiny insect and escaped from the lasso's grip, flying away to safety.

Feeling defeated and unsure of his next move, Sun Wukong considered giving up his fight against the Jade Emperor. He felt the weight of his responsibilities and the pressure to keep his home safe.

- You can do this, Sun Wukong. Remember your courage and your duty to your troop, a voice echoed in his mind.

Bolstered by the encouragement, Sun Wukong decided to face the Jade Emperor one last time. Impressed by his bravery and skills, the Jade Emperor offered him a new mission: to be the guardian of the Tang Monk on a journey to retrieve sacred scriptures. Sun Wukong accepted, and so began his epic journey to the West.

Related books

Discover other books with the same style

Atlas & Cosmo: The Case of the Missing Colors

Join Atlas and Cosmo, two brave cat detectives, as they embark on a cosmic adventure to Bubblegum World to solve the mysterious disappearance of the candy trees' colors. Will they be able to restore the vibrant hues and save the magical planet?

The Dragon's Bad Breath and the Princess

In the joyful Old and Nice Kingdom, Oma, a kind-hearted 12-year-old, must find a way to help a dragon with terrible breath. Her journey to solve this smelly problem is filled with unexpected obstacles and teaches a valuable lesson about charity.

True Super Heroes: Amazing Stories of the Prophets

حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق کی کہانی اللہ تعالیٰ نے جب کائنات کو تخلیق فرمایا تو اس کے بعد فرشتوں سے فرمایا کہ وہ زمین پر اپنا ایک نائب یعنی خلیفہ بنانے والا ہے۔ فرشتوں نے اس پر تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہا: "کیا تُو زمین میں ایسے شخص کو پیدا کرے گا جو فساد کرے گا اور خون بہائے گا، حالانکہ ہم تیری تسبیح اور تقدیس کرتے ہیں؟" (سورہ بقرہ، 2:30) اللہ تعالیٰ نے جواب دیا: "میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔" (سورہ بقرہ، 2:30) حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق کے مراحل: اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو مختلف مراحل میں تخلیق فرمایا جس کا ذکر قرآن کریم میں مختلف مقامات پر موجود ہے: مٹی سے ابتداء: اللہ تعالیٰ نے مٹی سے انسان کی تخلیق کی ابتداء کی۔ "اور ہم نے انسان کو کھنکھناتی ہوئی مٹی سے بنایا جو سُوکھی ہوئی گارے سے تھی" (سورہ حجر، 15:26) پتلا (گیلی مٹی): پھر اس مٹی کو گارے کی شکل دی گئی۔ خشک مٹی: پھر اس گارے کو خشک کیا گیا جس سے وہ بجنے والی مٹی بن گئی۔ روح کا پھونکنا: جب جسمانی ساخت مکمل ہو گئی تو اللہ تعالیٰ نے اس میں اپنی روح پھونکی۔ "پھر جب میں اسے ٹھیک بنا لوں اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم اس کے آگے سجدے میں گر پڑنا۔" (سورہ ص، 38:72) اس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے دستِ قدرت سے حضرت آدم علیہ السلام کو بہترین صورت میں تخلیق فرمایا اور انہیں علم سے نوازا۔ حضرت آدم علیہ السلام کو علم کی عطا: اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو تمام چیزوں کے نام سکھائے۔ پھر فرشتوں سے ان چیزوں کے نام پوچھے تو وہ نہ بتا سکے۔ اس پر فرشتوں نے اپنی عاجزی کا اظہار کرتے ہوئے کہا: "پاک ہے تُو، ہمیں کچھ علم نہیں سوا اس کے جو تُو نے ہمیں سکھایا، بے شک تُو ہی علم والا، حکمت والا ہے۔" (سورہ بقرہ، 2:32) فرشتوں کا سجدہ: اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کریں۔ تمام فرشتوں نے اللہ کے حکم کی تعمیل کی لیکن ابلیس نے تکبر کرتے ہوئے سجدہ کرنے سے انکار کر دیا۔ اس نے کہا: "میں اس سے بہتر ہوں، تُو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اسے مٹی سے۔" (سورہ اعراف، 7:12) اس تکبر کی وجہ سے ابلیس کو جنت سے نکال دیا گیا اور وہ شیطان کے نام سے مشہور ہوا۔ حضرت حوا علیہا السلام کی تخلیق: حضرت آدم علیہ السلام کی تنہائی دور کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت حوا علیہا السلام کو پیدا فرمایا۔ انہیں حضرت آدم علیہ السلام کے بائیں پسلی سے پیدا کیا گیا۔ جنت میں سکونت اور آزمائش: اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا علیہا السلام کو جنت میں رہنے کی اجازت دی اور انہیں تمام نعمتوں سے نوازا۔ لیکن انہیں ایک خاص درخت کے قریب جانے سے منع فرمایا۔ شیطان کا فریب: شیطان نے حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا علیہا السلام کو بہکانے کی کوشش کی اور انہیں یہ کہہ کر ورغلایا کہ اس درخت کا پھل کھانے سے وہ ہمیشہ جنت میں رہیں گے اور فرشتے بن جائیں گے۔ شیطان کے فریب میں آ کر انہوں نے اس درخت کا پھل کھا لیا۔ جس کے نتیجے میں ان پر ان کی ستر پوشی ظاہر ہو گئی اور وہ شرمندہ ہوئے۔ توبہ اور زمین پر نزول: حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا علیہا السلام نے اپنی غلطی کا احساس کیا اور اللہ تعالیٰ سے معافی مانگی۔ انہوں نے یہ دعا کی: "اے ہمارے رب! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا، اور اگر تُو ہمیں نہ بخشے گا اور ہم پر رحم نہ کرے گا تو ہم یقیناً نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔" (سورہ اعراف، 7:23) اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمائی لیکن انہیں زمین پر بھیج دیا تاکہ وہ یہاں زندگی گزاریں اور اللہ تعالیٰ کی خلافت کا فریضہ سرانجام دیں۔ حضرت آدم علیہ السلام کی نبوت: اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو نبوت سے نوازا اور انہیں اپنی ہدایت سے آگاہ کیا۔ حضرت آدم علیہ السلام نے اپنی اولاد کو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کی اطاعت کی تعلیم دی۔ اس کہانی سے حاصل ہونے والے اسباق: اللہ تعالیٰ کی حکمت و قدرت کامل ہے۔ تکبر اور نافرمانی کا انجام برا ہوتا ہے۔ توبہ کی اہمیت اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کا بیان ہے۔ زندگی ایک آزمائش ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت ضروری ہے۔۔

CreateBookAI © 2025

Terms Of Service Confidentiality Policy Cookies